بین الاقوامیبین الاقوامی خبریں

ٹرمپ کے نئے سفر پر پابندی کے احکامات

واشنگٹن —  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سفر پر پابندی کے احکامات کو بحال کرنے کی کوشش کی ہے، جس نے ملک بھر میں ایک نئی سیاسی اور قانونی بحث چھیڑ دی ہے۔ ٹرمپ، جو 2024 کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد دوبارہ عہدے پر فائز ہوئے ہیں، نے اعلان کیا ہے کہ وہ "امریکہ کی سلامتی کو یقینی بنانے” کے لیے مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے لیے سفر پر پابندیوں کو دوبارہ نافذ کریں گے۔

یہ پابندیاں پہلی بار 2017 میں نافذ کی گئی تھیں، جنہیں "مسلم بین” کہا گیا تھا، اور ان پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ نئے احکامات میں ایران، شام، صومالیہ، اور دیگر ممالک کے شہریوں کے ویزا جاری کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

تاہم، اس فیصلے پر فوری طور پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، قانون سازوں، اور بین الاقوامی برادری نے اسے "امتیازی سلوک” اور "امریکی اقدار کے خلاف” قرار دیا ہے۔ کئی ریاستوں کے اٹارنی جنرلز نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ڈیموکریٹک رہنماوں نے بھی اس اقدام کی سخت مذمت کی ہے۔ سینیٹر الیگزینڈریا اوکیسیو-کورٹیز نے ٹویٹر پر لکھا، "یہ پابندیاں نہ صرف غیر انسانی ہیں، بلکہ یہ ہماری قوم کی بنیادی اقدار کے خلاف ہیں۔ ہم اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔”

دوسری طرف، ٹرمپ کے حامیوں نے اس اقدام کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ملک کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ ایک حامی نے کہا، "صدر ٹرمپ ہمیشہ امریکہ کو پہلے رکھتے ہیں۔ یہ قدم ہمارے شہریوں کی حفاظت کے لیے اٹھایا گیا ہے۔”

اب یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ پابندیاں عدالتی چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں یا نہیں، اور کیا یہ امریکی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی تعلقات پر اثر انداز ہوں گی۔

Related Articles

Back to top button