میں ہوں شجر کار
انجنئیر ظفر وٹو
چاہے تم میرے ملک کے سارے درخت کاٹ کر بیچ دو۔پورے ملک کی زرعی زمینوں پر لینٹر ڈال دو۔ کراچی میں بس چلانے کے نام پر درخت کاٹو۔ ہر شہر میں کوئلے سے چلنے والے تھرمل پاور پلانٹ لگا دو۔ ہمارے شہروں کو انسانوں کے لئے جینے کے قابل نہ چھوڑو لیکن جب تک ایک بھی شجر کار زندہ ہے ہم درخت لگاتے رہیں گے۔
کیا تم جانتے ہو کہ جب شہر اقتدار کے درخت کرسی کے کھیل میں جلا ئے جارہے تھے تو عین اسی وقت اشر تحریک کے رضاکار شیرانی کے جنگلات میں لگی آگ بجھانے کے لئے اپنی جانوں پر کھیل رہے تھے۔
سیانے کہتے ہیں کہ درخت لگانے سے موسمیاتی تبدیلی ٹل نہیں جائے گی۔اس کا حل کاربن امشنز (اخراج)کو صفر کرنا ہے جو کہ تب ہی ممکن ہے جب ہم گھٹیا وہیکلز پہ پابندی لگا کر صرف جدید وہیکلز کو چلنے دیں گے۔ فاسل فیولز کا استعمال بالکل ختم کر دیں گے۔ انڈسٹریزی کو زیرو کاربن ڈائی آکسائڈ پہ شفٹ کر دیں گے تب ایسا ممکن ہے۔
یہ کام امریکہ جیسا ملک نہیں کرسکے۔ یورپ اس پر ڈانواڈول ہے تو برصغیر کے ملک تو کیا” پدی اور کیا پدی کا شوربہ “۔ اوپر بتائے گئے سارے حل ہمارے ہاں ناممکن ہیں۔سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں خدانخواستہ صرف کورونا جیسی وبا ہی رکوا سکتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ کوئلے پہ چلنے والے پاور پلانٹس کا گرمی کی اس شدید لہر میں بڑا کردار ہے لیکن اس سے بڑا کردار ان پلانٹس کا اہل سیاست کے بینک اکاؤنٹس کو مسلسل موٹا کرنے میں ہے۔ لہذا کوئلے کے پاور پلانٹس سے چھٹکارہ ممکن نہیں ۔ ملک میں کوئلے کے وافر ذخائر کے باوجود یہ پلانٹ امپورٹڈ کوئلے پر چلتے ہیں۔ کوئلے کے کئی پلانٹ تو ایسے ہیں جو باہر کے ملکوں نے اکھاڑ پھینکے اور ہمارے ملک کو کچرہ خانہ سمجھتے ہوئے یہاں پر لگا دئے گئے۔
پاکستان میں میسر توانائی کے متبادل ماحول دوست ذرائع سے پاکستان کی ضرورت سے کئ گنا زیادہ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ ملک کی بجلی کی کل ضرورت اس وقت اٹھائیس ہزار تک پہنچ چکی ہے لیکن ہمارے ہاں صرف پانی سے پچاس ساٹھ ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی بن سکتی ہے۔
پاکستان کی شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی بنانے کی قدرتی صلاحیت ایک لاکھ میگاواٹ سے بھی زیادہ ہے مگر پھر بھی ملک میں اس وقت پیدا ہونے والی بجلی کا ستر فی صد تک تھرمل پاور پلانٹس سے آرہا ہے اور مقتدرہ حلقوں کی موج لگی ہے۔
ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو ختم کرنے کے لئے شہروں کے بے ہنگم کنکریٹ کے جنگل کو ختم کرنا بھی ضروری ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں کی لالچی بلڈر مافیا اور اہل اقتدار کے گڑھ جوڑ سے پورے ملک کی بہترین زرعی زمینوں پر سوسائٹیاں بننے جارہی ہیں اور غذائی بحران سر پر کھڑا ہے۔
ملک کی ایک ایک انچ زمین پر لینٹر ڈال کر کنکریٹ کے جنگل کی بجائے کنکریٹ کا میدان بنایا جا رہا ہے۔ عمودی کی بجائے افقی رہائشی علاقے بنائے جارہے ہیں اور ایسا کرنے میں حرص اور لالچ کے ساتھ ساتھ آبادی کا بھی بہت دباؤ ہے کیونکہ ہر نئے پیدا ہونے والے بچے کو چھت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں ڈیمانڈ ہوگی وہاں مارکیٹ تو بوم کرے گی اور سرمایہ دار تو فائدہ اٹھائے گاہی۔
اگر مقتدرہ حلقے پاور پلانٹس سے پیسے بنانے میں مصروف ہے ۔ سرمایہ دار رہائشی کالونیاں بنا رہے ہیں تو میں بھی ایک شجر کار ہوں۔ میں بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھوں گا۔ جب تک میرے ملک میں ایک انچ بھی درخت لگانے کے لئے جگہ موجود ہے میں درخت لگاؤں گا۔ اگر پورے ملک میں لینٹر بھی پڑ گیا تو میں اس لینٹر پر مٹی ڈال ڈال کر درخت لگانا شروع کردوں گا۔ یہ میرا ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلی پیدا کرنے والوں کو جواب ہوگا۔
یہ درخت پہلے بھی اس نیلے سیارے پر موجود تھے جب کارخانے اور کنکریٹ کے گھر نہیں تھے اور آئندہ بھی ہمیں ان کی ضرورت رہے گی جب توانائی کے متبادل ذرائع ایجاد ہوجائیں گے اور کاربن ایمشنز زیرو ہوجائیں گی۔
ایک بندے کا لگایا ہوا ایک درخت موسمیاتی تبدیلی کو کیا روک سکتا ہے لیکن یہ موسمیاتی تبدیلی روکنے کا ایک استعارہ تو بن سکتا ہے۔تاہم کروڑوں بندوں کا لگایا ہوا ایک ایک درخت ضرور فرق ڈال سکتا ہے ۔چاہے یہ فرق ایک فی صد ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ ایک کے بغیر 99 بھی سو نہیں بن سکتا۔
میں درخت اس لئے لگاتا ہوں کہ میرے 1 فیصد نے موسمیاتی تبدیلی کو 100 فی صد ٹیک اوور نہیں کرنے دینا۔ میں ایک انسان ہوں میں نے مزاحمت کرنی ہے۔ میں نے جینے کے نئے طریقے بھی ڈھونڈنے ہیں تو ساتھ ہی موجودہ حالات میں اپنے آپ کو زندہ رکھ کر آگے بڑھانا ہے۔ جہاں پہلے بھی ڈائنوسار جیسے بڑے جانور ختم ہو گئے وہاں میں نے سراوائیو کیا اورآگے بڑھ آیا اور انشااللہ اب بھی ایسا ہوگا کیونکہ ۔۔۔۔۔
میں بھی ایک شجر کار ہوں۔ میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھوں گا۔ جب تک میرے ملک میں ایک انچ بھی درخت لگانے کے لئے جگہ موجود ہے میں درخت لگاؤں گا۔ اگر پورے ملک میں لینٹر بھی پڑ گیا تو میں اس لینٹر پر مٹی ڈال ڈال کر درخت لگانا شروع کردوں گا۔ یہ میرا ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلی پیدا کرنے والوں کو جواب ہوگا۔